Skip to main content

اپریل فول کی درد ناک حقیقت


 اپریل فول کی درد ناک حقیقت

 جب عیسائی افواج نے اسپین کو فتح کیا تو اس وقت اسپین کی زمیں پر مسلمانوں کا اتنا خون بہا یا گیا کہ فاتح فوجکے گھوڑے جب گلیوں سے گزرتے تھے تو ان کی ٹانگیں گھٹنوں تک مسلمانوں کے خون میں ڈوبی ہوتے تھیں جب قابض افواج کو یقین ہوگیا کہ اب اسپین میں کوئی بھی مسلمان زندہ نہیں بچا ہے تو انہوں نے گرفتار مسلمان فرما روا کو یہ موقع دیا کہ وہ اپنے خاندان کےساتھ واپس مراکش چلا جائے جہاں سے اسکے آباؤ اجدادآئے تھے ،قابض افواج غرناطہ سے کوئی بیس کلومیٹر دور ایک  پہاڑی پر اسے چھوڑ کر واپس چلی گئی جب عیسائی افواج مسلمان حکمرانوں کو اپنے ملک سے نکال چکیں تو حکومتی جاسوس گلی گلی گھومتے رہے کہ کوئی مسلمان نظر آئے تو اسے شہید کردیا جائے ، جو مسلمان زندہ بچ گئے وہ اپنے علاقے چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں جا بسے اور وہاں جا کر اپنے گلوں میں صلیبیں ڈال لیں اور عیسائی نام رکھ لئے، اب بظاہر اسپین میں کوئی مسلمان نظر نہیں آرہا تھا مگر اب بھی عیسائیوں کو یقین تھا کہ سارے مسلمان قتل نہیں ہوئے کچھ چھپ کر اور اپنی شناخت چھپا کر زندہ ہیں اب مسلمانوں کو باہر نکالنے کی ترکیبیں سوچی جانے لگیں اور پھر ایک منصوبہ بنایا گیا ۔ پورے ملک میں اعلان ہوا کہ یکم اپریل کو تمام مسلمان غرناطہ میں اکٹھے ہوجائیں تاکہ انہیں انکے ممالک بھیج دیا جائے جہاں وہ جانا چاہیں۔اب چونکہ ملک میں امن قائم ہوچکا تھا اور مسلمانوں کو خود ظاہر ہونے میں کوئی خوفم حسوس نہ ہوا ، مارچ کے پورے مہینے اعلانات ہوتے رہے ، الحمراء کے نزدیک بڑے بڑے میدانوں میں خیمے نصب کردیئے گئے جہاز آکر بندرگاہ پر لنگرانداز ہوتے رہے ، مسلمانوں کو ہر طریقے سے یقین دلایا گیا کہ انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا جب مسلمانوں کو یقین ہوگیا کہ اب ہمارے ساتھ کچھ نہیں ہوگا تو وہ سب غرناطہ میں اکٹھے ہونا شروع ہوگئے اسی طرح حکومت نے تمام مسلمانوں کو ایک جگہ اکٹھا کرلیا اور انکی بڑی خاطر مدارت کی۔ یہ کوئی پانچ سو برس پہلے یکم اپریل کا دن تھا جب تمام مسلمانوں کو بحری جہاز میں بٹھا یا گیامسلمانوں کو اپنا وطن چھوڑتے ہوئے تکلیف ہورہی تھی مگر اطمینان تھا کہ چلو جان تو بچ جائے گی جان بچھی تو لاکھوں پاے، دوسری طرف عیسائی حکمران اپنے محلات میں جشن منانے لگے ،جرنیلوں نے مسلمانوں کو الوداع کیا اور جہاز وہاں سے چلے دیئے ، ان مسلمانوں میں بوڑھے، جوان ، خواتین ، بچے اور کئی ایک مریض بھی تھے جب جہاز سمندر کے عین وسط میں پہنچے تو منصوبہ بندی کے تحت انہیں گہرے پانی میں ڈبو دیا گیا اور یوں وہ تمام مسلمان سمندرمیں ابدی نیند سوگئے۔ اس کے بعد اسپین میں خوب جشن منایا گیا کہ ہم نے کس طرح اپنے دشمنوں کو بیوقوف بنایا۔ پھر یہ دن اسپین کیسرحدوں سے نکل کر پورے یورپمیں فتح کا عظیم دن بن گیا اور اسے انگریزی میں
First April Fool
 کا نام دیدیا گیا یعنی یکم اپریل کے بیوقوف ۔آج بھی عیسائی دنیا اس دن کی یاد بڑے اہتمام سے منائی جاتی ہے اور لوگوں کو جھوٹ بول کر بیوقوف بنایا جاتا ہے۔ اس رسم کے درج ذیل نقصانات ہیں
1.۔ دشمنوں کی خوشی میں شرکت کرنا2.۔ نفاق میں ڈوب جاتا3.۔ جھوٹ بولنا اور ہلاکت پانا4.۔ اللہ کی ناراضگی پانا5.۔ مسلمان بہن بھائیوں کی تباہی و بربادی کی خوشی منانا6.۔ مسلمان بہن بھائیوں کو مصیبت میں ڈالنا7.۔ دنیا و آخرت میں تباہی ہی تباہی ہے۔ 

Comments

Popular posts from this blog

Jashan-e-Mefang: Celebrating the Return of Light in Baltistan

جشنِ مے فنگ – 21 دسمبر پس منظر، تاریخ اور منانے کی وجوہات  جشنِ میفنگ (Mefang / Mehfong) بلتستان کا ایک قدیم ثقافتی تہوار ہے جو ہر سال 21 دسمبر کو منایا جاتا ہے۔ یہ دن موسمِ سرما کے انقلاب (Winter Solstice) کی علامت ہے، یعنی سال کا سب سے چھوٹا دن اور سب سے طویل  رات۔ اسی دن کے بعد دن بتدریج لمبے ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ تاریخی پس منظر جشنِ میفنگ کی جڑیں بلتستان کی اسلام سے قبل کی قدیم تہذیب میں پیوست ہیں، جب یہاں کے پہاڑی معاشرے فطرت، سورج اور موسموں کی گردش پر گہری نظر رکھتے تھے۔ شدید سردی، طویل راتیں اور محدود وسائل انسان کی بقا کے لیے بڑا امتحان ہوتے تھے۔ 21 دسمبر کو سورج کی واپسی اور روشنی کے بڑھنے کا آغاز ایک امید کی علامت سمجھا جاتا تھا، اسی خوشی میں یہ تہوار منایا جاتا تھا۔ اسلام کی آمد کے بعد بھی یہ تہوار مذہبی نہیں بلکہ ثقافتی روایت کے طور پر زندہ رہا اور نسل در نسل منتقل ہوتا رہا۔ جشن منانے کی وجوہات اندھیرے کے خاتمے کی خوشی : طویل راتوں کے بعد روشنی کے بڑھنے کا آغاز بقا پر شکرگزاری : سخت سردیوں میں زندہ رہنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر امید اور نیا آغاز :...

Mohtarma Benazir Bhutto Shaheed – The Eternal Voice of Democracy (27 December | Death Anniversary)

 Mohtarma Benazir Bhutto Shaheed – A Martyr of Democracy (27 December – Death Anniversary) Mohtarma Benazir Bhutto Shaheed remains one of the most influential, courageous, and inspiring leaders in Pakistan’s political history. Every year on 27 December, the nation remembers her supreme sacrifice for democracy, constitutional supremacy, and the rights of the people of Pakistan. Early Life and Political Journey Benazir Bhutto was born on 21 June 1953 in Karachi into a prominent political family. She was the daughter of Zulfikar Ali Bhutto, the founder of the Pakistan Peoples Party (PPP) and former Prime Minister of Pakistan. Educated at Harvard University and Oxford University, she emerged as a symbol of intellect, resilience, and political maturity at a very young age. After the execution of her father in 1979 during General Zia-ul-Haq’s regime, Benazir Bhutto faced imprisonment, house arrest, and exile. Despite immense personal suffering, she never abandoned her political struggle ...

13 Rajab: Birth of Imam Ali (A.S.) – History, Significance & Spiritual Lessons

13 Rajab: A Day of Light, Faith, and Leadership 13 Rajab al-Murajjab holds immense spiritual and historical significance in the Islamic calendar. It is universally revered by Muslims across the world as the birth anniversary of Hazrat Imam Ali ibn Abi Talib (A.S.), one of the most influential personalities in Islamic history. This sacred day is not only a moment of joy and gratitude but also a reminder of justice, courage, knowledge, and unwavering devotion to Allah. The Unmatched Birth in the Kaaba One of the most extraordinary aspects of 13 Rajab is that Imam Ali (A.S.) was born inside the Holy Kaaba in Makkah—an honor never granted to anyone else before or after him. According to well-documented historical narrations: His mother, Bibi Fatima bint Asad (R.A.), felt labor pains near the Kaaba The wall of the Kaaba miraculously opened She entered the sacred house and gave birth to Imam Ali (A.S.) inside This miraculous event symbolizes Imam Ali’s unique spiritual status and his lifelon...